Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
690 - 872
    جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج میں گرہن لگا۔ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کایہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا ردفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ (بخاری جلد ۱ ص۱۴۵ باب الدعاء فی الکسوف)
یقینا چاند اور سورج اﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔

    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی۔(1)(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)

    روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو
1۔۔۔۔۔۔ صحیح البخاری،کتاب الکسوف،باب الدعاء فی الکسوف،الحدیث:۱۰۶۰،ج۱،ص۳۶۳

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ، ج ۲ ، ص ۴۵۲۔۴۵۴

وصحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم انابک...الخ، 

الحدیث:۱۳۰۳،ج۱،ص۴۴۱
Flag Counter