یہ سب سے پہلے فرزند ہیں جو حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش مبارک میں اعلانِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم ان ہی کے نام پر ہے۔ جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ یہ پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کی عمر شریف دو برس کی ہوئی مگر علامہ غلابی کہتے ہیں کہ یہ فقط سترہ ماہ زندہ رہے۔(1) واﷲ اعلم۔ (زرقانی جلد۳ ص ۱۹۴)
حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ان ہی کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اعلانِ نبوت سے قبل مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں وفات پا گئے۔(2)
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یہ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں۔ یہ ذوالحجہ ۸ ھ میں مدینہ منورہ کے قریب مقام ''عالیہ'' کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ اس لیے مقام عالیہ کادوسرا نام ''مشربۂ ابراہیم ''بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس میں سنائی۔ یہ خو ش خبری سن کر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انعام کے طور پر حضرت
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب فی ذکر اولادہ الکرام ، ج۴، ص ۳۱۶ 2۔۔۔۔۔۔ المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب فی ذکر اولادہ الکرام ، ج۴، ص ۳۱۴