| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
مذکورہ بالا باندیوں کے علاوہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ایک چوتھی باندی صا حبہ بھی تھیں جن کے بارے میں عام طور پر مؤرخین نے لکھا ہے کہ ان کا نام معلوم نہیں۔ یہ بھی کسی جہاد میں گرفتار ہو کر بارگاہِ اقدس میں آئی تھیں اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی باندی بن کر آپ کی صحبت سے سرفراز ہوتی رہیں۔(1)(زرقانی جلد ۳ ص ۲۷۴)
اولادِ کرام
اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراہیم اور چار صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم و حضرت فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) لیکن بعض مؤرخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے عبداﷲ بھی ہیں جن کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے۔ تین صاحبزادگان اورچار صاحبزادیاں، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔ اس کے علاوہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس اولاد کے بارے میں دوسرے اقوال بھی ہیں جن کا تذکرہ طوالت سے خالی نہیں۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم سے تولد ہوئے تھے باقی تمام اولاد کرام حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک سے پیداہوئیں۔ (2)
(زرقانی جلد ۲ ص۱۹۳ و مدارج النبوۃ جلد ۳ ص ۴۵۱)1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب ، باب ذکر سراریہ ، ج ۴، ص ۴۶۳ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب ذکر اولاد ہ الکرام،ج۴،ص۳۱۳،۳۱۴ ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب اول ، ج ۲ ، ص۴۵۰، ۴۵۱