Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
683 - 872
اسی طرح ایک مرتبہ ایک سفر میں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اونٹ زخمی ہوگیا اور حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک فاضل اونٹ تھا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے زینب! تم اپنا اونٹ صفیہ کو دے دو۔ حضرت زینب نے طیش میں آکر کہہ دیا کہ میں اس یہودیہ کو اپنی کوئی چیز نہیں دوں گی۔ یہ سن کر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر اس قدر خفا ہو گئے کہ دو تین ماہ تک ان کے بستر پر آپ نے قدم نہیں رکھا۔ (1)(مدارج النبوۃ جلد۲ ص۴۸۳)

    ترمذی شریف کی روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا رو رہی ہیں آپ نے رونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا : یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے یہ کہا ہے کہ ہم دونوں دربار رسالت میں تم سے بہت زیادہ عزت دار ہیں کیونکہ ہمارا خاندان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے صفیہ!تم نے ان دونوں سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیونکر ہو سکتی ہو۔ حضرت ہارون علیہ السلام میرے باپ ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے چچا ہیں اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے شوہر ہیں۔(2)(زرقانی جلد۳ ص۲۵۹)

انہوں نے دس حدیثیں بھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں جن
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب صفیۃ ام المؤمنین ،ج۴ ، ص ۴۲۸۔۴۳۲

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب دوم ،ج ۲ ، ص۴۸۲،۴۸۳

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب ،باب صفیۃ ام المؤمنین ج۴، ص ۴۳۵

وسنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۹۱۸، 

ج۵،ص۴۷۴
Flag Counter