میں سے ایک حدیث بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہے اور باقی نو حدیثیں دوسری کتابوں میں درج ہیں۔
ان کی وفات کے سال میں اختلاف ہے و اقدی کا قول ہے کہ ۵۰ ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔اور ابن سعد نے لکھا ہے کہ ۵۲ ھ میں ان کا انتقال ہوا ۔ بوقت رحلت ان کی عمر ساٹھ برس کی تھی یہ بھی مدینہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں سپرد خاک کی گئیں۔ (1)(زرقانی جلد۳ ص۲۵۹ و مدارج جلد۲ ص۴۸۳)
یہ شہنشاہ مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وہ گیارہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن ہیں جن پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے۔ ان میں سے حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا تو ہجرت سے پہلے ہی انتقال ہوچکا تھااورحضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جن کا لقب ''ام المساکین '' ہے۔ ہم پہلے بھی تحریر کر چکے ہیں کہ نکاح کے دو تین ماہ بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ہی یہ وفات پا گئی تھیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحلت کے وقت آپ کی نو بیویاں موجود تھیں جن میں سے آٹھ کی آپ باریاں مقرر فرماتے رہے کیونکہ حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو ہبہ کردیا تھا۔ ان نو مقدس ازواج میں سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحلت کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے وفات پائی اور سب کے بعد آخر میں ۶۲ھ یا ۶۳ھ میں حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے رحلت فرمائی ان کی وفات کے بعد دنیا امہات المؤمنین سے خالی ہو گئی۔