Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
682 - 872
    محرم   ۷ھ؁ میں جب خیبرکومسلمانوں نے فتح کر لیااورتمام اسیران جنگ گرفتار کرکے اکٹھا جمع کئے گئے تو اس وقت حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک لونڈی طلب کی، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی پسند سے ان قیدیوں میں سے کوئی لونڈی لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو لے لیامگر ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضرت صفیہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی شاہ زادی ہیں۔ ان کے خاندانی اعزاز کا تقاضا ہے کہ آپ ان کو اپنی ازواجِ مطہرات میں شامل فرما لیں۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو حضرت دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے لے لیا اور ان کے بدلے میں انہیں ایک دوسری لونڈی عطا فرما دی پھر حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا اور جنگ خیبر سے واپسی میں تین دنوں تک منزل صہبا میں ان کو اپنے خیمہ کے اندر اپنی قربت سے سرفراز فرمایا اور دعوت ولیمہ میں کھجور، گھی، پنیر کا مالیدہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کھلایا جس کا مفصل تذکرہ جنگ خیبر میں گزر چکا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر بہت ہی خصوصی توجہ اور انتہائی کریمانہ عنایت فرماتے تھے اور اس قدر ان کا خیال رکھتے تھے کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر غیرت سوار ہو جایا کرتی تھی۔

    منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بارے میں یہ کہہ دیا کہ ''وہ تو پستہ قد ہے'' تو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! تو نے ایسی بات کہہ دی کہ اگر تیرے اس کلام کو دریا میں ڈال دیا جائے تو دریا متغیر ہو جائے گا۔(یعنی یہ غیبت ہے جو بہت ہی گندی بات ہے)