| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
کوچہ و بازار میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ تمام اہل مدینہ اپنی مقدس ماں کی نمازِ جنازہ کے لئے حاضر ہو جائیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یہ جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ ۲۰ھ یا ۲۱ ھ میں ۵۳ برس کی عمر پا کر مدینہ منورہ میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔(1)(مدارج النبوۃ جلد۲ ص۴۷۶ تا ۴۷۸ وغیرہ)
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
زمانہ جاہلیت میں چونکہ یہ غرباء اور مساکین کو بکثرت کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے ان کا لقب ''ام المساکین''(مسکینوں کی ماں) ہے پہلے ان کا نکاح حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا مگر جب وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تو ۳ھ میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد صرف دو مہینے یا تین مہینے زندہ رہیں اور ربیع الآخر ۴ھ میں تیس برس کی عمر پاکر وفات پا گئیں اور جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ساتھ دفن ہوئیں یہ ماں کی جانب سے حضرت ام المؤمنین بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی بہن ہیں۔ (2)(زرقانی جلد۳ ص۲۴۹)
حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
ان کے والد کا نام حارث بن حزن ہے اور ان کی والدہ ہند بنت عوف ہیں ۔ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا نام پہلے ''برہ ''تھا لیکن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر ''میمونہ '' (برکت دہندہ) رکھ دیا۔
1۔۔۔۔۔۔ مدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب دوم ، ج ۲ ، ص۴۷۶، ۴۷۹ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب زینب ام المساکین والمؤمنین،ج۴،ص۴۱۶،۴۱۷