حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن میں سے سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہانے وفات پائی تو اس وقت لوگوں کو پتا چلا کہ ہاتھ لمبا ہونے سے مراد کثرت سے صدقہ دیناتھا۔ کیونکہ حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھ سے کچھ دستکاری کا کام کرتی تھیں اور اس کی آمدنی فقراء و مساکین پر صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔
ان کی وفات کی خبر جب حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ہائے ایک قابل تعریف عورت جو سب کے لئے نفع بخش تھی اور یتیموں اور بوڑھی عورتوں کا دل خوش کرنے والی تھی آج دنیا سے چلی گئی، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے بھلائی اور سچائی میں اور رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کے معاملہ میں حضرت زینب سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا۔
منقول ہے کہ حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے اکثر یہ کہا کرتی تھیں کہ مجھ کو خداوند تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت عطا فرمائی ہے جو ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ تمام ازواجِ مطہرات کا نکاح تو ان کے باپ داداؤں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کیا لیکن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ میرا نکاح اﷲ تعالیٰ نے کر دیا۔
انہوں نے گیارہ حدیثیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہیں جن میں سے دو حدیثیں بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں۔ باقی نو حدیثیں دوسری کتب احادیث میں لکھی ہوئی ہیں۔
منقول ہے کہ جب حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات کا حال امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دے دیا کہ مدینہ کے ہر