کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور اس کو یہ خوشخبری سنائے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا نکاح اس کے ساتھ فرما دیا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک خادمہ دوڑتی ہوئی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچیں اور یہ آیت سنا کر خوشخبری دی۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہااس بشارت سے اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اتار کر اس خادمہ کو انعام میں دے دیا اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور اس نعمت کے شکریہ میں دو ماہ لگاتار روزہ دار رہیں۔
روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بعد ناگہاں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے مکان میں تشریف لے گئے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بغیر خطبہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نکاح فرما لیا؟ ارشاد فرمایا کہ تیرے ساتھ میرا نکاح اﷲ تعالیٰ نے کر دیا ہے اور حضرت جبریل علیہ السلام اور دوسرے فرشتے اس نکاح کے گواہ ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے نکاح پر جتنی بڑی دعوت ولیمہ فرمائی اتنی بڑی دعوت ولیمہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن میں سے کسی کے نکاح کے موقع پر بھی نہیں فرمائی۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکاح کی دعوت ولیمہ میں تمام صحابہ کرام کو نان و گوشت کھلایا۔
ان کے فضائل و مناقب میں چند احادیث بھی مروی ہیں۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد تم ازواجِ مطہرات میں سے میری وہ بیوی سب سے پہلے وفات پا کر مجھ سے آن ملے گی جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہے۔ یہ سن کر تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے ایک لکڑی سے اپنا ہاتھ ناپا تو حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا نکلا لیکن جب