Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
669 - 872
نجاشی کو جب یہ فرمان نبوت پہنچا تو اس نے اپنی ایک خاص لونڈی کو جس کا نام ''ابرہہ'' تھا حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیغام کی خبر دی۔ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس خوشخبری کو سن کر اس قدر خوش ہوئیں کہ اپنے کچھ زیورات اس بشارت کے انعام میں ابرہہ لونڈی کو انعام کے طور پر دے دئیے اور حضرت خالد بن سعید بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو ان کے ماموں کے لڑکے تھے اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی کے پاس بھیج دیا ۔نجاشی نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور حضرت جعفر بن ابی طالب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو جو اس وقت حبشہ میں موجود تھے اس مجلس میں بلایا اور خود ہی خطبہ پڑھ کر سب کے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نکاح کر دیا اور چار سو دینار اپنے پاس سے مہر ادا کیا جو اسی وقت حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد کر دیا گیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس نکاح کی مجلس سے اٹھنے لگے تو نجاشی بادشاہ نے کہا کہ آپ لوگ بیٹھے رہیے انبیاء علیہم السلام کا یہ طریقہ ہے کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ کہہ کر نجاشی نے کھانا منگایا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم شکم سیر کھانا کھا کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے پھر نجاشی نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو مدینہ منورہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرم نبوی میں داخل ہو کر ام المؤمنین کا معزز لقب پا لیا۔

    حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بہت پاکیزہ ذات و حمیدہ صفات کی جامع اور نہایت ہی بلند ہمت اور سخی طبیعت کی مالک تھیں اور بہت ہی قوی الایمان تھیں۔ ان کے