ان کااصلی نام ''رملہ''ہے۔یہ سردارمکہ ابوسفیان بن حرب کی صاحبزادی ہیں اور ان کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابوالعاص ہے جو امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی ہیں۔
یہ پہلے عبید اﷲ بن جحش کے نکاح میں تھیں اورمیاں بیوی دونوں نے اسلام قبول کیا اور دونوں ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے۔ لیکن حبشہ پہنچ کر ان کے شوہر عبیداﷲ بن جحش پر ایسی بدنصیبی سوار ہو گئی کہ وہ اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی ہوگیا اور شراب پیتے پیتے نصرانیت ہی پروہ مر گیا۔
ابن سعد نے حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے یہ روایت کی ہے کہ انہوں نے حبشہ میں ایک رات میں خواب دیکھا کہ ان کے شوہر عبید اﷲ بن جحش کی صورت اچانک بہت ہی بدنما اور بدشکل ہو گئی وہ اس خواب سے بہت زیادہ گھبرا گئیں۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے اچانک یہ دیکھا کہ ان کے شوہر عبیداﷲ بن جحش نے اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی دین قبول کر لیا ،حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر کو اپنا خواب سنا کر ڈرایا اور اسلام کی طرف بلایا مگر اس بدنصیب نے اس پر کان نہیں دھرا اور مرتد ہونے ہی کی حالت میں مر گیا مگر حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے اسلام پر استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی حالت معلوم ہوئی تو قلب نازک پر بے حد صدمہ گزرا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی دلجوئی کے لئے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نجاشی بادشاہِ حبشہ کے پاس بھیجا اور خط لکھا کہ تم میرے وکیل بن کر حضرت ام حبیبہ کے ساتھ میرا نکاح کر دو۔