Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
670 - 872
والد ابو سفیان جب کفر کی حالت میں تھے اور صلح حدیبیہ کی تجدید کے لئے مدینہ آئے تو بے تکلف ان کے مکان میں جا کر بستر نبوت پر بیٹھ گئے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اپنے باپ کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور یہ کہہ کر اپنے باپ کو بستر سے اٹھا دیا کہ یہ بستر نبوت ہے۔ میں کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک اس پاک بستر پر بیٹھے۔

    حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے پینسٹھ حدیثیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں جن میں سے دو حدیثیں بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں موجود ہیں اور ایک حدیث وہ ہے جس کو تنہا مسلم نے روایت کیا ہے۔ باقی حدیثیں حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔ان کے شاگردوں میں ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ اور ان کی صاحبزادی حضرت حبیبہ اور ان کے بھانجے ابو سفیان بن سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بہت مشہور ہیں۔

    ۴۴ھ؁ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حظیرہ میں مدفون ہوئیں۔ (1)

        (زرقانی جلد۳ ص ۲۴۲ تا ۲۴۵ و مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۸۱ تا ۴۸۲)
حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت امیمہ بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی ہیں۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب ام حبیبۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۴۰۳،۴۰۸

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ،باب دوم ، ج ۲ ،ص۴۸۱،۴۸۲
Flag Counter