والد ابو سفیان جب کفر کی حالت میں تھے اور صلح حدیبیہ کی تجدید کے لئے مدینہ آئے تو بے تکلف ان کے مکان میں جا کر بستر نبوت پر بیٹھ گئے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اپنے باپ کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور یہ کہہ کر اپنے باپ کو بستر سے اٹھا دیا کہ یہ بستر نبوت ہے۔ میں کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک اس پاک بستر پر بیٹھے۔
حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے پینسٹھ حدیثیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں جن میں سے دو حدیثیں بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں موجود ہیں اور ایک حدیث وہ ہے جس کو تنہا مسلم نے روایت کیا ہے۔ باقی حدیثیں حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔ان کے شاگردوں میں ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ اور ان کی صاحبزادی حضرت حبیبہ اور ان کے بھانجے ابو سفیان بن سعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بہت مشہور ہیں۔
۴۴ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حظیرہ میں مدفون ہوئیں۔ (1)
(زرقانی جلد۳ ص ۲۴۲ تا ۲۴۵ و مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۸۱ تا ۴۸۲)