Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
667 - 872
بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا ۔حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اورخوداپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کرکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مایوس ہو گئے کہ اب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہر گز ہر گز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔

حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں۔ مدینہ منورہ میں چوراسی برس کی عمر پا کر وفات پائی اور ان کی وفات کا سال  ۵۳ھ؁ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یہ جنت البقیع میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے قبرستان میں مدفون ہوئیں۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ ان کے وصال کا سال  ۵۹ھ؁ ہے ا ور ابراہیم حربی نے فرمایا کہ  ۶۲ھ ؁ میں ان کا انتقال ہوااوربعض کہتے ہیں کہ  ۶۳ھ ؁کے بعد ان کی وفات ہوئی ہے۔ (1)واﷲ تعالیٰ اعلم۔(زرقانی جلد۳ ص۲۳۸ تا ۲۴۲ و اکمال و حاشیۂ اکمال ص۵۹۹)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب ام سلمۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۹۶۔۴۰۳وباب 

امر الحدیبیۃ،ج۳،ص ۲۲۶

ومدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب دوم ،ج۲، ص۴۷۶
Flag Counter