Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
661 - 872
روزہ افطار کرتیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ تم نے اگرمجھ سے پہلے کہا ہوتا تو میں ایک درہم کا گوشت منگا لیتی۔

    حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بھانجے تھے ان کا بیان ہے کہ فقہ و حدیث کے علاوہ میں نے حضرت عائشہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہا) سے بڑھ کر کسی کو اشعار عرب کا جاننے والا نہیں پایا وہ دوران گفتگو میں ہر موقع پر کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں جو بہت ہی بر محل ہواکرتا تھا۔

    علم طب اور مریضوں کے علاج معالجہ میں بھی انہیں کافی بہت مہارت تھی۔ حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن حیران ہو کر حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے آپ کے علم حدیث و فقہ پر کوئی تعجب نہیں کیونکہ آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجیت اور صحبت کا شرف پایا ہے اور آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ محبوب ترین زوجہ مقدسہ ہیں اسی طرح مجھے اس پر بھی کوئی تعجب اور حیرانی نہیں ہے کہ آپ کو اس قدر زیادہ عرب کے اشعار کیوں اور کس طرح یاد ہو گئے؟ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نور نظر ہیں اور وہ اشعار عرب کے بہت بڑے حافظ و ماہر تھے مگر میں اس بات پر بہت ہی حیران ہوں کہ آخر یہ طبی معلومات اور علاج و معالجہ کی مہارت آپ کو کہاں سے اور کیسے حاصل ہو گئی؟ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور عرب و عجم کے اطباء آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے اور میں ان دواؤں سے آپ کا علاج کیا کرتی تھی اس لئے