Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
662 - 872
مجھے طبی معلومات بھی حاصل ہو گئیں۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے شاگردوں میں صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے اور آپ کے فضائل و مناقب میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں۔

۱۷ رمضان شب سہ شنبہ  ۵۷ھ؁ یا  ۵۸ھ؁ میں مدینہ منورہ کے اندر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا وصال ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا۔(1)(اکمال و حاشیہ اکمال ص۶۱۲ و زرقانی جلد۳ ص۲۳۴ تا ۲۳۵)
حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے والد ماجد امیر المومنین حضرت عمر ابن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت زینب بنت مظعون رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو ایک مشہورصحابیہ ہیں۔ حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پہلی شادی حضرت خنیس بن حذافہ سہمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوئی ا ور انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ طیبہ کو ہجرت بھی کی تھی لیکن ان کے شوہر جنگ بدر یا جنگ احد میں زخمی ہو کر وفات پا گئے اور یہ بیوہ ہو گئیں پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ۳ھ؁میں ان سے نکاح فرمایا اور یہ ام المؤمنین کی حیثیت سے کاشانۂ نبوی کی سکونت سے مشرف ہوگئیں۔

    یہ بہت ہی شاندار،بلندہمت اور سخاوت شعار خاتون ہیں۔ حق گوئی حاضر جوابی اور فہم و فراست میں اپنے والد بزرگوار کا مزاج پایا تھا۔ اکثر روزہ دار رہا کرتی
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب عائشۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۸۹۔۳۹۲

والاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین ، عائشۃ الصدیقۃ ، ص۶۱۲
Flag Counter