آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھا یہ کیا ہے؟ لانے والے نے بتایا کہ درہم ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ بھلا درہم کھجوروں کے تھیلے میں بھیجے جاتے ہیں یہ کہا اور اٹھ کر اسی وقت ان تمام درہموں کو مدینہ کے فقرا و مساکین پر تقسیم کر دیا۔
حدیث کی مشہور کتابوں میں ان کی روایت کی ہوئی پانچ حدیثیں مذکور ہیں جن میں سے ایک حدیث بخاری شریف میں بھی ہے حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت یحیی بن عبدالرحمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہما ان کے شاگردوں میں بہت ہی ممتاز ہیں۔
ان کی وفات کے سال میں مختلف اور متضاد اقوال ہیں،امام ذہبی اور امام بخاری نے اس روایت کو صحیح بتایا ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے آخری دور خلافت ۲۳ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی لیکن و اقدی نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ ان کی وفات کا سال ۵۴ھ ہے اور صاحب اکمال نے بھی ان کا سنہ وفات شوال ۵۴ھ ہی تحریر کیا ہے مگر حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تقریب التہذیب میں یہ لکھا ہے کہ ان کی وفات شوال ۵۵ھ میں ہوئی ۔(1)واﷲ تعالیٰ اعلم۔
(زرقانی جلد۳ ص۲۲۹ و اکمال ص۵۹۹)