Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
657 - 872
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھا یہ کیا ہے؟ لانے والے نے بتایا کہ درہم ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ بھلا درہم کھجوروں کے تھیلے میں بھیجے جاتے ہیں یہ کہا اور اٹھ کر اسی وقت ان تمام درہموں کو مدینہ کے فقرا و مساکین پر تقسیم کر دیا۔

    حدیث کی مشہور کتابوں میں ان کی روایت کی ہوئی پانچ حدیثیں مذکور ہیں جن میں سے ایک حدیث بخاری شریف میں بھی ہے حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت یحیی بن عبدالرحمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہما ان کے شاگردوں میں بہت ہی ممتاز ہیں۔

ان کی وفات کے سال میں مختلف اور متضاد اقوال ہیں،امام ذہبی اور امام بخاری نے اس روایت کو صحیح بتایا ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے آخری دور خلافت  ۲۳ھ؁ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی لیکن و اقدی نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ ان کی وفات کا سال  ۵۴ھ؁ ہے اور صاحب اکمال نے بھی ان کا سنہ وفات شوال  ۵۴ھ؁ ہی تحریر کیا ہے مگر حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب تقریب التہذیب میں یہ لکھا ہے کہ ان کی وفات شوال  ۵۵ھ؁ میں ہوئی ۔(1)واﷲ تعالیٰ اعلم۔

            (زرقانی جلد۳ ص۲۲۹ و اکمال ص۵۹۹)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:
    یہ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نورِ نظر اور دخترنیک اختر ہیں۔ ان کی والدہ ماجدہ کا نام ''اُمِ رُومان'' ہے یہ چھ برس کی تھیں جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب سودۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۷۹۔۳۸۱

والاکمال فی اسماء الرجال ، حرف السین ، سودۃ ، ص۵۹۹
Flag Counter