Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
658 - 872
نکاح فرمایا اور شوال   ۲ ھ؁ میں مدینہ منورہ کے اندر یہ کاشانہ نبوت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ ازواجِ مطہرات میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہ نبوت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الٰہی اترتی رہتی ہے۔(1)

                 (بخاری جلد۱ ص۵۳۲ فضل عائشہ)

    بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تین راتیں میں خواب میں یہ دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔(2)(مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۷۳)

    فقہ و حدیث کے علوم میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے اندران کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دوہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب عائشۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۸۱۔۳۸۸ملتقطاً

وصحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب فضل عائشۃ رضی اللہ عنہا،الحدیث:۳۷۷۵،ج۲،ص۵۵۲

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب المناقب،باب مناقب ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورضی اللہ عنہن، الحدیث: ۶۱۸۸،ج۲، ص ۴۴۴
Flag Counter