Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
656 - 872
گے۔ اس کے بعد دوسری رات میں حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے یہ خواب دیکھا کہ ایک چاند ٹوٹ کر ان کے سینے پر گرا ہے صبح کو انہوں نے اس خواب کا بھی اپنے شوہر سے ذکر کیا تو ان کے شوہر حضرت سکران رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چونک کر کہا کہ اگر تیرایہ خواب سچا ہے تو میں اب بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح کرو گی ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اسی دن حضرت سکران رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے اور چند دنوں کے بعد وفات پا گئے۔(1)(زرقانی جلد۳ ص۲۲۷)

    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات سے ہر وقت بہت زیادہ مغموم اور اداس رہا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت خولہ بنت حکیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ درخواست پیش کی کہ یارسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمالیں تا کہ آپ کا خانہ معیشت آباد ہو جائے اور ایک وفادار اور خدمت گزار بیوی کی صحبت و رفاقت سے آپ کا غم مٹ جائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا۔چنانچہ حضرت خولہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے باپ سے بات چیت کرکے نسبت طے کرا دی اور نکاح ہو گیا اور یہ اُمہات المؤمنین کے زمرے میں داخل ہو گئیں اور اپنی زندگی بھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجیت کے شرف سے سرفراز رہیں اور انتہائی والہانہ عقیدت و محبت کے ساتھ آپ کی وفادار اور خدمت گزار رہیں ۔یہ بہت ہی فیاض اور سخی تھیں ایک مرتبہ حضرت امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے درہموں سے بھرا ہوا ایک تھیلا ان کی خدمت میں بھیجا
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب سودۃ ام المؤمنین ، ج۴، ص ۳۷۷۔۳۷۸
Flag Counter