| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
میں مکہ معظمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا چونکہ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔(1) (زرقانی جلد۳ ص۲۲۷ و اکمال فی اسماء الرجال ص۵۹۳)
حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
ان کے والد کا نام ''زمعہ'' اور ان کی والدہ کا نام شموس بنت قیس بن عمرو ہے۔ یہ پہلے اپنے چچا زاد بھائی سکران بن عمرو سے بیاہی گئی تھیں۔ یہ میاں بیوی دونوں ابتدائے اسلام میں ہی مسلمان ہو گئے تھے اور ان دونوں نے حبشہ کی ہجرت ثانیہ میں حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی، لیکن جب حبشہ سے واپس آ کر یہ دونوں میاں بیوی مکہ مکرمہ آئے تو ان کے شوہر سکران بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے اور یہ بیوہ ہوگئیں ان کے ایک لڑکا بھی تھا جن کا نام ''عبدالرحمن'' تھا۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ایک خواب دیکھا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پیدل چلتے ہوئے ان کی طرف تشریف لائے اور ان کی گردن پر اپنا مقدس پاؤں رکھ دیا۔ جب حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس خواب کو اپنے شوہر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر تیرا خواب سچا ہے تو میں یقینا عنقریب ہی مر جاؤں گا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تجھ سے نکاح فرمائیں1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی ، باب خدیجۃ ام المؤمنین ، ج۴، ص ۳۷۶ والاکمال فی اسماء الرجال،حرف الخاء ، خدیجۃ بنت خویلد، ص۵۹۳