رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اورعرض کیا کہ اے محمد!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ خدیجہ ہیں جو آپ کے پاس ایک برتن لے کر آ رہی ہیں جس میں کھانا ہے۔ جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیں اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیں کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بناہے جس میں نہ کوئی شور ہو گا نہ کوئی تکلیف ہو گی۔(1)(بخاری جلد۱ص۵۳۹ باب تزویج النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
امام احمد و ابو داؤد و نسائی،حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ، حضرت مریم و حضرت آسیہ ہیں۔(2)(رضی اللہ تعالیٰ عنہن)(زرقانی جلد۳ ص۲۲۳ تا۲۲۴)
اسی طرح روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبانِ مبارک سے حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی بہت زیادہ تعریف سنی تو انہیں غیرت آ گئی اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اب تو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بیوی عطا فرما دی ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے