Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
652 - 872
حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سب سے پہلی رفیقۂ حیات ہیں۔ ان کے والد کا نام خویلد بن اسد اور ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ یہ خاندان قریش کی بہت ہی معزز اور نہایت ہی دولت مند خاتون تھیں۔ ہم اِس کتاب کے تیسرے باب میں لکھ چکے ہیں کہ اہل مکہ ان کی پاک دامنی اور پارسائی کی بنا پر انکو ''طاہرہ'' کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ انہوں نے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق و عادات اور جمالِ صورت و کمالِ سیرت کو دیکھ کر خود ہی حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح کی رغبت ظاہر کی اور پھر باقاعدہ نکاح ہو گیا جس کا مفصل تذکرہ گزر چکا۔ علامہ ابن اثیر اور امام ذہبی کا بیان ہے کہ اس بات پر تمام اُمت کا اجماع ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر سب سے پہلے یہی ایمان لائیں اور ابتداء اسلام میں جب کہ ہر طرف سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت کا طوفان اُٹھ رہا تھا ایسے کٹھن وقت میں صرف انہیں کی ایک ذات تھی جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مونس حیات بن کر تسکین خاطر کا باعث تھی۔ انہوں نے اتنے خوفناک اور خطرناک اوقات میں جس استقلال اور استقامت کے ساتھ خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اور جس طرح تن من دھن سے بارگاہ نبوت میں اپنی قربانی پیش کی اس خصوصیت میں تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن پر ان کو ایک خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ چنانچہ ولی الدین عراقی کا بیان ہے کہ قول صحیح اور مذہب مختار یہی ہے کہ امہات المؤمنین میں حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سب سے زیادہ افضل ہیں۔

    ان کے فضائل میں چند حدیثیں وارد بھی ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ
Flag Counter