ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے مگر گیارہ اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ہی انتقال ہو گیا تھا مگر نو بیویاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفاتِ اقدس کے وقت موجود تھیں۔
ان گیارہ اُمت کی ماؤں میں سے چھ خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم و چراغ تھیں جن کے اسماء مبارکہ یہ ہیں:
(۱) خدیجہ بنت خویلد(۲) عائشہ بنت ابوبکرصدیق(۳) حفصہ بنت عمرفاروق
(۴)اُمِ حبیبہ بنت ابو سفیان(۵)اُمِ سلمہ بنت ابو امیہ(۶) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہن
اورچارازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن خاندان قریش سے نہیں تھیں بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں وہ یہ ہیں:
(۱)زینب بنت جحش(۲) میمونہ بنت حارث(۳) زینب بنت خزیمہ ''ام المساکین'' (۴) جویریہ بنت حارث اور ایک بیوی یعنی صفیہ بنت حیی یہ عربی النسل نہیں تھیں بلکہ خاندان بنی اسرائیل کی ایک شریف النسب رئیس زادی تھیں۔
اس بات میں بھی کسی مؤرخ کا اختلاف نہیں ہے کہ سب سے پہلے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا اور جب تک وہ زندہ رہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی دوسری عورت سے عقد نہیں فرمایا۔(1)
(زرقانی جلد۳ ص۲۱۸ تا ۲۱۹)