جب نبی کی بیویوں سے تم لوگ کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔(احزاب)
مسلمان اپنی حقیقی ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کر سکتا ہے مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس بیویوں سے ہر مسلمان کے لئے پردہ فرض ہے اور تنہائی میں انکے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے۔
اسی طرح حقیقی ماں کے ماں باپ، لڑکوں کے نانی نانا اور حقیقی ماں کے بھائی بہن، لڑکوں کے ماموں اور خالہ ہوا کرتے ہیں مگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ماں باپ امت کے نانی نانا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بھائی بہن امت کے ماموں خالہ نہیں ہوا کرتے۔
یہ حکم حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے لئے ہے جن سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نکاح فرمایا، چاہے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے پہلے ان کا انتقال ہوا ہو یا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔ یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے لئے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائق تعظیم و واجب الاحترام ہیں۔ (2)(زرقانی جلد۳ ص۲۱۶)