Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
638 - 872
پیغمبری دعائیں
    خداوند ِ قدوس کے دربار میں بندوں کی دعاؤں کا بہت ہی بڑا درجہ ہے اور دواؤں کی طرح دعاؤں میں بھی خلاقِ عالم جل جلالہٗ نے بڑ ی بڑی خاص خاص تاثیرات پیدا فرما دی ہیں۔ چنانچہ پروردگار عالم عزوجل نے قرآن مجید میں بار بار بندوں کو دعاءیں مانگنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ
ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ  (1)
یعنی اے بندو! تم لوگ مجھ سے دعاءیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا ۔

    اور حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی دعاؤں کی اہمیت اور ان کے فوائد کا ذکر فرماتے ہوئے اپنی امت کو دعاءیں مانگنے کی ترغیب دلائی اور فرمایا کہ
لَیْسَ شَیْیٌ اَکْرَمَ عَلَی اللہِ مِنَ الدُّعَآءِ
یعنی اﷲ تعالیٰ کے دربار میں دعا سے بڑھ کر عزت والی کوئی چیز نہیں ہے۔(2) (ترمذی باب فضل الدعاء ص۱۷۳ جلد۲) اور دعاؤں کی فضیلت و اہمیت کا اظہار فرماتے ہوئے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ
اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ (3)(ترمذی جلد۲ ص۱۷۲)
یعنی دعا عبادت کا مغز ہے اور یہ بھی فرمایا:
مَنْ لَّمْ یَسْئَلِ اللہَ یَغْضَبْ عَلَیْہِ
جو خدا سے دعا نہیں مانگتا خدا عزوجل اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔ (4)

(ترمذی جلد۲ ص۱۷۲ ابواب الدعوات)

اس لئے طب نبوی کی طرح حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان چند دعاؤں
1۔۔۔۔۔۔پ۲۴،المؤمن:۶۰

2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماجاء فی فضل الدعاء،الحدیث:۳۳۸۱،ج۵،ص۲۴۳

3۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماجاء فی فضل الدعاء،الحدیث:۳۳۸۲،ج۵،ص۲۴۳

4۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماجاء فی فضل الدعاء،الحدیث:۳۳۸۴،ج۵،ص۲۴۴
Flag Counter