اناڑی طبیب :حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص علم طب کو نہیں جانتا اور علاج کرتا ہے تو وہ (مریض کو اگر کوئی نقصان پہنچا) ضامن ہے یعنی اس سے نقصان کا تاوان لیا جائے گا۔ (1) (ابن ما جہ ص۲۵۶)
بخار: ایک شخص نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے روبرو بخار کو گالی دی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بخار کو گالی مت دو، بخار کی بیماری مریض کے گناہوں کو اس طرح دور کر دیتی ہے جس طرح لوہے کے میل کو آگ دور کر دیتی ہے۔(2)(ابن ما جہ ص۲۵۶ باب الحمیٰ)
بخار کا علاج : حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بخار جہنم کے جوش مارنے سے ہے۔ لہٰذا تم لوگ اس کو پانی سے (پلا کر اور غسل کرا کر) ٹھنڈا کرو۔ (3)
(ابن ما جہ ص۲۵۶ باب الحمی)
نوٹ: بخار کا یہ علاج ایک خاص قسم کے بخار کا علاج ہے جو عرب میں ہوتا ہے جسکواطباء صفراوی بخاریاحمی ناریہ(لولگنے کابخارکہتے ہیں)یہ ہرقسم کے بخارکا علاج نہیں ہے۔(4) (حاشیہ ابن ما جہ ص۲۵۶)
اس لئے ہر قسم کے بخاروں میں یہ علاج کامیاب نہیں ہو سکتا لہٰذا کسی طبیب حاذق سے اچھی طرح بخار کی تشخیص کرا لینے کے بعد ہی اس کا علاج کرانا چاہیے۔
واﷲ تعالیٰ اعلم۔