Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
634 - 872
میں ارشاد نبوی ہے کہ ''عجوہ'' جنت سے ہے اور وہ جنون یا زہر سے شفاء ہے۔(1)

                 (ابن ما جہ ص۲۵۵ باب الکماۃ والعجوۃ)

کَمْأۃجس کو بعض لوگ ککرمتا اور بعض لوگ سانپ کی چھتری کہتے ہیں اس کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کماۃ ''مَنّ''کے مثل ہے جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا( یعنی جیسے وہ مفت کی چیز اوربہت ہی مفید چیز تھی ایسی ہی یہ ہے) اوراس کا عرق آنکھوں کے لئے شفاء ہے ۔(2)(ابن ما جہ ص۲۵۵ باب الکماۃ و بخاری وغیرہ)

سَنَا( سنامکی ایک دوا ہے) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کس دوا سے جلاب لیتی ہو؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ ''شبرم'' سے ،آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو بہت ہی گرم دوا ہے، پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو سنا کا جلاب لینے کے لئے حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر موت سے شفا دینے والی کوئی چیز ہوتی تو وہ سنا ہے۔(3) (ابن ما جہ ص۲۵۵ باب دواء المشی)

سَنُّوْت اس کے معنی میں شارحین حدیث کا اختلاف ہے مگر اطباء نے ایک خاص تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ یعنی وہ شہد جو گھی کے برتن میں رکھا گیا ہو اور اس میں گھی کے کچھ اثرات پہنچ گئے ہوں، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ سنا اور سنوت کو استعمال کرتے رہو کہ ان دونوں میں موت کے سوا تمام امراض سے شفاء ہے۔(4) (ابن ما جہ ص۲۵۵ باب السناء و السنوت)
1۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ،کتاب الطب،باب الکمأۃ والعجوۃ،الحدیث:۳۴۵۳،ج۴،ص۹۵

2۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ،کتاب الطب، باب الکمأۃ والعجوۃ،الحدیث: ۳۴۵۴،ج۴،ص ۹۶

3۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ ،کتاب الطب، باب دواء المشی ، الحدیث: ۳۴۶۱،ج۴، ص۱۰۰

4۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ ،کتاب الطب،باب السناوالسنوت،الحدیث:۳۴۵۷،ج۴،ص۹۷
Flag Counter