حِمْیَہ(مضر چیزوں سے پرہیز) حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو لے کر حضرت ام المنذر صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے انہوں نے کچی پکی کھجوروں کا ایک خوشہ پیش کیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور نقاہت باقی ہے اس لئے تم اس کو مت کھاؤ۔ اس کے بعد حضرت ام المنذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جو اور چقندر ملا کر کھانا پکایا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم یہ کھاؤ یہ تمہارے لئے بہت زیادہ مفید غذا ہے۔(1)(ابن ما جہ ص۲۵۴ باب الحمیہ)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ زبردستی کرکے اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور مت کیا کرو، اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو کھلا پلا دیا کرتا ہے۔ (2)
(ابن ما جہ ص۲۵۴ باب لاتکر ہوا المریض علی الطعام)
زَنْجَبِیْل(سونٹھ) بادشاہ روم نے ایک گھڑا زنجبیل سے بھرا ہوا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس ہدیۃ ً بھیجا تھا، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک ایک ٹکڑا اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کھانے کے لئے دیا اس روایت کو ابو نعیم محدث نے اپنی کتاب ''طبِ نبوی'' میں بیان کیا ہے۔ (3) (نشرالطیب)
عَجْوَہ مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور کا نام ہے اس کے بارے