Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
627 - 872
اپنے پوتے کا نام ''محمد'' کیوں رکھا آپ کے آباء و اجداد میں کسی کا بھی یہ نام نہیں رہا ہے۔ تو آپ نے جواب دیا کہ میں نے اس نیت سے اور اس امید پر اس بچے کا نام ''محمد'' رکھا ہے کہ تمام روئے زمین کے لوگ اس کی تعریف کریں گے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ میں نے اس امید پر ''محمد'' نام رکھا کہ اﷲ تعالیٰ آسمانوں میں اس کی تعریف فرمائے گا اور زمین میں خدا کی تمام مخلوق اس کی تعریف کرے گی،اور حضرت عبدالمطلب کی اس نیت اور امید کی و جہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میری پیٹھ سے ایک چاندی کی زنجیر نکلی جس کا ایک کنارہ زمین میں ہے اور ایک سرا آسمان کو چھو رہا ہے اور تمام مشرق و مغرب کے انسان اس زنجیر سے چمٹے ہوئے ہیں حضرت عبدالمطلب نے جب قریش کے کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو انہوں نے اس خواب کی یہ تعبیر بتائی کہ اے عبدالمطلب!آپ کی نسل سے عنقریب ایک ایسا لڑکا پیدا ہو گا کہ تمام اہل مشرق و مغرب اس کی پیروی کریں گے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی مدح و ثنا کا خطبہ پڑھیں گے۔ (1)      (زرقانی جلد۳ ص۱۱۴ تا ۱۱۵)

اور بعض کا قول ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ''محمد'' رکھا ہے کیونکہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے شکم مبارک میں رونق افروز تھے تو انہوں نے خواب میں ایک فرشتہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اے آمنہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ سارے جہان کے سردار تمہارے شکم میں تشریف فرما ہیں جب یہ پیدا ہوں تو تم ان کا نام ''محمد'' رکھنا۔(2) (زرقانی جلد۳ ص۱۱۵)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب فی ذکراسمائہ الشریفۃ...الخ،ج۴،ص۱۶۱،۱۶۲

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب فی ذکراسمائہ...الخ،ج۴،ص۱۶۱،۱۶۲ملتقطاً
Flag Counter