حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں میں (۱) ''محمد ''و(۲)''احمد'' ہوں اور میں (۳) ''ماحی'' ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میری و جہ سے کفر کو مٹاتا ہے اور میں(۴) ''حاشر'' ہوں کہ میرے قدموں پر سب لوگوں کا حشر ہو گا اور(۵) ''عاقب'' ہوں۔ (1) (یعنی سب سے آخری نبی)(بخاری ج۱ ص۵۰۱ باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲعزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
قرآن مجید میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے القاب و اسماء بہت زیادہ تعداد میں مذکور ہیں۔ چنانچہ بعض علماء کرام نے فرمایا کہ خداوند قدوس کے ناموں کی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بھی ننانوے نام اورعلامہ ابن دحیہ نے اپنی کتاب میں تحریر فرمایاکہ اگرحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ان تمام ناموں کو شمار کیا جائے جو قرآن و حدیث اور اگلی کتابوں میں مذکور ہیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموں کی گنتی تین سو تک پہنچتی ہے اور بعض صوفیاء کرام کا بیان ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بھی ایک ہزار نام ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ناموں کی تعداد بھی ایک ہزار ہے۔ (2)
(زرقانی جلد۳ ص۱۱۸)
بہر حال حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام اسماء مبارکہ میں سے دو نام سب سے زیادہ مشہور ہیں ایک ''محمد'' دوسرا ''احمد'' (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ''محمد'' رکھا اور اسی نام پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا عقیقہ کیا جب لوگوں نے پوچھا کہ اے عبدالمطلب!آپ نے