Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
628 - 872
ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے اپنے اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے خوابوں کی و جہ سے دونوں نے باہمی مشورہ سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ''محمد'' رکھا ہو۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''محمد'' کے نام سے ذکر فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ''احمد'' کے نام سے تمام زندگی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر جمیل کا ڈنکا بجاتے رہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہ،ۤ اَحْمَدُط (1) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ خوشخبری سناتے ہوئے تشریف لائے تھے کہ میرے بعد ایک رسول تشریف لانے والے ہیں جن کا نامِ نامی و اسم گرامی ''احمد '' ہے۔
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مشہور کنیت ''ابو القاسم'' ہے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ کنیت مذکور ہے، مگر حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کنیت ''ابو ابراہیم'' بھی ہے۔ چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان لفظوں سے سلام کیا کہ ''السلام علیک یا ابا ابراھیم '' یعنی اے ابراہیم!کے والد آپ پر سلام ۔ (2)        (زرقانی جلد۳ ص۱۵۱)
1۔۔۔۔۔۔پ۲۸،الصف:۶

2۔۔۔۔۔۔ المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب فی ذکراسمائہ الشریفۃ...الخ،ج۴،ص۲۲۹
Flag Counter