ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے اپنے اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے خوابوں کی و جہ سے دونوں نے باہمی مشورہ سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام ''محمد'' رکھا ہو۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''محمد'' کے نام سے ذکر فرمایا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ''احمد'' کے نام سے تمام زندگی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ذکر جمیل کا ڈنکا بجاتے رہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہ،ۤ اَحْمَدُط (1) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ خوشخبری سناتے ہوئے تشریف لائے تھے کہ میرے بعد ایک رسول تشریف لانے والے ہیں جن کا نامِ نامی و اسم گرامی ''احمد '' ہے۔