چنانچہ صفوان مکہ جا کر چلا چلا کر اپنی قوم سے کہنے لگا کہ اے لوگو! دامن اسلام میں آ جاؤ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس قدر زیادہ مال عطافرماتے ہیں کہ فقیری کا کوئی اندیشہ ہی باقی نہیں رہتا اس کے بعد پھر صفوان خود بھی مسلمان ہوگئے۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔(1) (زرقانی ج۴ ص۲۹۵)
بہر حال آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جودونوال اور سخاوت کے احوال اس قدر عدیم المثال اور اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کا تذکرہ تحریر کیا جائے تو بہت سی کتابوں کا انبار تیارہو سکتا ہے مگر اس سے پہلے کے ا وراق میں ہم جتنا اور جس قدر لکھ چکے ہیں وہ سخاوت نبوت کو سمجھنے کے لئے بہت کافی ہے۔ خداوند کریم عزوجلہم سب مسلمانوں کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پرزیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)