Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
624 - 872
نے کسی سائل کے جواب میں خواہ وہ کتنی ہی بڑی چیز کا سوال کیوں نہ کرے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لا (نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا۔(شفاء شریف جلد۱ ص۶۵)

یہی وہ مضمون ہے جس کو فرزدق شاعر تابعی متوفی  ۱۱۰ ھ؁ نے کیا خوب کہا ہے کہ(1)    ؎
مَا قَالَ لَا قَطُّ اِلَّا فِیْ تَشَھُّدِہٖ		لَوْلاَ التَّشَھُّدُ کَانَتْ لَاؤہٗ نَعَمْ
    اسی کا ترجمہ کسی فارسی کے شاعر نے اس طرح کیا ہے کہ  ؎
نہ گفت لا بزبان مبارکش ہر گز		مگر در اشہد ان لا الٰہ الا اﷲ



 یعنی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سائل کے جواب میں لا(نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ نعم(ہاں) ہی کہا مگر کلمہ شہادت میں لا (نہیں) کا لفظ ضرور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر آتا تھا اور اگر کلمہ شہادت میں لا کہنے کی ضرورت نہ ہوتی تو اس میں بھی لا (نہیں) کی جگہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نَعَمْ (ہاں) ہی فرماتے۔ 

    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سخاوت کسی سائل کے سوال ہی پر محدود و منحصر نہیں تھی بلکہ بغیر مانگے ہوئے بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس قدر زیادہ مال عطا فرما دیا کہ عالم سخاوت میں اس کی مثال نادر و نایاب ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بہت بڑے دشمن امیہ بن خلف کافر کا بیٹا صفوان بن امیہ جب مقام ''جعرانہ'' میں حاضر دربار ہوا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اتنی کثیر تعداد میں اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ عطافرما دیا کہ دو پہاڑیوں کے درمیان کا میدان بھر گیا۔
1۔۔۔۔۔۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،فصل واما الجود والکرم...الخ،ج۱،ص۱۱۱،۱۱۲

والمواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ...الخ،ج۶،ص۱۱۳
Flag Counter