Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
623 - 872
جانے سے بے حد خوش ہوئے اور اس کی تین سو بکریاں واپس کر دیں۔ (1) (زرقانی جلد۴ ص۲۹۲)
ابو الاسود سے زور آزمائی
    اسی طرح ابو الاسودجمحی اتنا بڑا طاقتورپہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں سکتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آ کر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے کشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس طاقت نبوت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔ (2) 

                     (زرقانی جلد۴ ص۲۹۲)
    اسی طرح ابو الاسودجمحی اتنا بڑا طاقتورپہلوان تھا کہ وہ ایک چمڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس پہلوان اس چمڑے کو کھینچتے تھے تا کہ وہ چمڑا اس کے نیچے سے نکل جائے مگر وہ چمڑا پھٹ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود اس کے نیچے سے نکل نہیں سکتا تھا۔ اس نے بھی بارگاہِ اقدس میں آ کر یہ چیلنج دیا کہ اگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس سے کشتی لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس طاقت نبوت سے حیران ہو کر فوراً ہی مسلمان ہو گیا۔ (2) 

                     (زرقانی جلد۴ ص۲۹۲)
سخاوت
حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ سخاوت محتاج بیان نہیں۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انسانوں سے زیادہ بڑھ کر سخی تھے۔ خصوصاً ماہ رمضان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سخاوت اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ برسنے والی بدلیوں کو اٹھانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سخی ہو جاتے تھے۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ ...الخ ، ج۶، ص۱۰۳

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ...الخ،ج۶،ص۱۰۳،۱۰۴
Flag Counter