| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
بھول گیا پھر تین دن کے بعد مجھے جب خیال آیا تو رقم لے کراس جگہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اُسی جگہ ٹھہرے ہوئے میرا انتظار فرما رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر ذرا بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیشانی پر بل نہیں آیا اوراس کے سوا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اور کچھ نہیں فرمایا کہ اے نوجوان !تم نے تو مجھے مشقت میں ڈال دیا کیونکہ میں اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہاہوں۔ (1) (شفاء شریف ص۷۴)
عدل
خداعزوجل کے مقدس رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام جہان میں سب سے زیادہ امین سب سے بڑھ کرعادل اور پاک دامن وراست باز تھے۔ یہ وہ روشن حقیقت ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بڑے بڑے دشمنوں نے بھی اس کا اعتراف کیا۔ چنانچہ اعلان نبوت سے قبل تمام اہل مکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''صادق الوعد'' اور ''امین'' کے معزز لقب سے یاد کرتے تھے۔ حضرت ربیع بن خثیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مکہ والوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اعلیٰ درجہ کے امین اور عادل ہیں اسی لئے اعلان نبوت سے پہلے اہل مکہ اپنے مقدمات اور جھگڑوں کا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فیصلہ کرایا کرتے تھے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام فیصلوں کو انتہائی احترام کے ساتھ بلا چون و چرا تسلیم کر لیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ امین کا فیصلہ ہے۔ (2)
(شفاء شریف جلد۱ ص۷۸،۷۹)
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس قدر بلند مرتبہ عادل تھے اس بارے1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما خلقہ...الخ،ج۱،ص ۱۲۶ 2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما عدلہ،ج۱ ، ص ۱۳۴ ملتقطاً