میں بخاری شریف کی ایک روایت سب سے بڑھ کر شاہد عدل ہے۔ قبیلہ قریش کے خاندان بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسلام میں چور کی یہ سزا ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ پہنچوں سے کاٹ ڈالا جائے۔ قبیلہ قریش کو اس واقعہ سے بڑی فکر دامن گیر ہو گئی کہ اگر ہمارے قبیلہ کی اس عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو یہ ہماری خاندانی شرافت پر ایسا بدنما داغ ہو گا جو کبھی مٹ نہ سکے گا اورہم لوگ تمام عرب کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہو جائیں گے اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ بارگاہ رسالت میں کوئی زبردست سفارش پیش کر دی جائے تا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس عورت کا ہاتھ نہ کاٹیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو جو نگاہ نبوت میں انتہائی محبوب تھے دباؤ ڈال کر اس بات کے لئے آمادہ کر لیا کہ وہ دربار اقدس میں سفارش پیش کریں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے اشراف قریش کے اصرار سے متأثر ہو کر بارگاہِ رسالت میں سفارش عرض کر دی یہ سن کر پیشانی نبوت پر جلال کے آثار نمودار ہوگئے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت ہی غضب ناک لہجہ میں فرمایا کہ