فقراء کے ساتھ ہم نشینی فرماتے اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان مل جل کر نشست فرماتے۔ (1)(شفاء شریف جلد۱ ص۷۷)
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے گھریلو کام خود اپنے دستِ مبارک سے کر لیا کرتے تھے۔ اپنے خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھاناتناول فرماتے تھے اور گھر کے کاموں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خادموں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ (2) (شفاء شریف جلد۱ ص۷۷)
ایک شخص دربار رسالت میں حاضر ہوا تو جلالت نبوت کی ہیبت سے ایک دم خائف ہو کر لرزہ براندام ہو گیا اورکانپنے لگا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بالکل مت ڈرو۔ میں نہ کوئی بادشاہ ہوں، نہ کوئی جبار حاکم، میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کی بوٹیاں کھایا کرتی تھی۔(3)
(زرقانی ج۴ ص۲۷۶ و شفاء جلد۱ ص۷۸)
فتح مکہ کے دن جب فاتحانہ شان کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے لشکروں کے ہجوم میں شہر مکہ کے اندر داخل ہونے لگے تو اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر تواضع اور انکسار کی ایسی تجلی نمودار تھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اونٹنی کی پیٹھ پر اس طرح سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاسر مبارک کجاوہ کے اگلے حصہ سے لگاہوا تھا۔(4) (شفاء جلد۱ ص۷۷)