تمام اولاد آدم میں سب سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ ہیں اورقیامت کے دن سب سے پہلے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر انور سے اٹھائے جائیں گے اور میدانِ حشر میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔ (1) (زرقانی جلد۴ ص۲۶۲ و شفاء جلد۱ ص۸۶)
حضرت ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے عصاء مبارک پر ٹیک لگاتے ہوئے کاشانہ نبوت سے باہر تشریف لائے تو ہم سب صحابہ تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے یہ دیکھ کر تواضع کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس طرح نہ کھڑے رہا کرو جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے رہا کرتے ہیں میں تو ایک بندہ ہوں بندوں کی طرح کھاتا ہوں اور بندوں کی طرح بیٹھتا ہوں۔(2) (شفاء شریف جلد۱ ص۸۶)
حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ حضور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کبھی اپنے پیچھے سواری پر اپنے کسی خادم کو بھی بٹھا لیا کرتے تھے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ جنگ قریظہ کے دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری کے جانور کی لگام چھال کی رسی سے بنی ہوئی تھی۔(3) (زرقانی جلد۴ ص۲۶۴)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غلاموں کی دعوت کو بھی قبول فرماتے تھے۔ جوکی روٹی اور پرانی چربی کھانے کی دعوت دی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس دعوت کو قبول فرماتے تھے۔ مسکینوں کی بیمارپرسی فرماتے،