Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
609 - 872
اسی طرح جب حجۃ الوداع میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک لاکھ شمع نبوت کے پروانوں کے ساتھ اپنی مقدس زندگی کے آخری حج میں تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنی پر ایک پرانا پالان تھا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم انور پر ایک چادر تھی جس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی اسی اونٹنی کی پشت پر اور اسی لباس میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداوند ذوالجلال کے نائب اکرم اور تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہونے کی حیثیت سے اپنا شہنشاہی خطبہ پڑھا جس کو ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید ہمہ تن گوش بن کر سن رہے تھے۔(1) (زرقانی جلد۴ ص۲۶۸)

حضرت عبداﷲ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعلین اقدس کا تسمہ ٹوٹ گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے اس کو درست فرمانے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے دیجئے میں اس کو درست کر دوں، میری اس درخواست پر ارشاد فرمایا کہ یہ صحیح ہے کہ تم اس کو ٹھیک کر دو گے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں تم لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہر کروں، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کسی کام میں مشغول دیکھ کر بار بار درخواست عرض کرتے کہ یارسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ خود یہ کام نہ کریں اس کام کو ہم لوگ انجام دیں گے مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہی فرماتے کہ یہ سچ ہے کہ تم لوگ میرا سب کام کر دو گے مگر مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان کسی امتیازی شان کے ساتھ رہوں۔(2)

                     (زرقانی جلد۴ ص۲۶۵)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃمع شرح الزرقانی ،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ...الخ ، ج۶، ص ۵۴

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃمع شرح الزرقانی ،الفصل الثانی فیما اکرمہ اللہ...الخ ، ج۶، ص ۴۹
Flag Counter