Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
606 - 872
لغرض اس طرح کے نبی رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہزاروں واقعات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حلم و عفو یعنی ایذاؤں کا برداشت کرنا اور مجرموں کو قدرت کے باوجود بغیر انتقام کے چھوڑ دینا اور معاف کر دینا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ عادت کریمہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا وہ عظیم شاہکار ہے جو ساری دنیا میں عدیم المثال ہے۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ
 وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِہٖ اِلَّا اَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللہِ (1)

         (شفاء شریف جلد۱ ص۶۱ وغیرہ و بخاری جلد۱ ص۵۰۳)
اپنی ذات کے لئے کبھی بھی رسول اﷲ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کسی سے انتقام نہیں لیا ہاں البتہ اﷲعزوجل کی حرام کی ہوئی چیزوں کا اگر کوئی مرتکب ہوتا تو ضرور اس سے مواخذہ فرماتے۔
تواضع
    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ تواضع بھی سارے عالم سے نرالی تھی، اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اختیار عطا فرمایا کہ اے حبیب!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو شاہانہ زندگی بسر فرمائیں اور اگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمچاہیں تو ایک بندے کی زندگی گزاریں، تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بندہ بن کر زندگی گزارنے کو پسند فرمایا۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ تواضع دیکھ کر فرمایا کہ یا رسول اﷲ !(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ کی اس تواضع کے سبب سے اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب المناقب ، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، الحدیث: 

۳۵۶۰،ج۲ ، ص۴۸۹
Flag Counter