Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
605 - 872
نبوت کی ہیبت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ بول! اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ غورث گڑ گڑا کر کہنے لگا کہ آپ ہی میری جان بچا دیں، رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیااور معاف فرما دیا۔ چنانچہ غورث اپنی قوم میں آ کر کہنے لگا کہ اے لوگو! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو تمام دنیا کے انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔ (1)(شفا قاضی عیاض جلد۱ ص۶۲)

کفار مکہ نے وہ کون سا ایسا ظالمانہ برتاؤ تھا جو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نہ کیا ہو مگر فتح مکہ کے دن جب یہ سب جباران قریش، انصار و مہاجرین کے لشکروں کے محاصرہ میں محصور و مجبور ہو کر حرم کعبہ میں خوف و دہشت سے کانپ رہے تھے اور انتقام کے ڈر سے ان کے جسم کا ایک ایک بال لرز رہا تھا۔ رسولِ رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان مجرموں اور پاپیوں کو یہ فرما کر چھوڑ دیا اور معاف فرما دیا کہ
لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے جاؤ تم سب آزاد ہو۔

ایک کافر کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پکڑ کر لائے کہ یا رسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا تھا وہ شخص خوف و دہشت سے لرزہ براندام ہو گیا۔ رحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کوئی خوف نہ رکھو بالکل مت ڈرو اگر تم نے میرے قتل کا ارادہ کر لیا تھا تو کیا ہوا؟ تم کبھی میرے اوپر غالب نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ خداوند تعالیٰ نے میری حفاظت کا وعدہ فرما لیا ہے۔ (2)(شفاء قاضی عیاض جلد۱ ص۶۳ وغیرہ)
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،فصل واما الحلم...الخ،ج۱،ص ۱۰۶،۱۰۷

2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل اما الحلم...الخ ،ج۱،ص۱۰۸
Flag Counter