Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
604 - 872
نازک گردن پر چادر کی کنار سے خراش آ گئی پھراس بدوی نے یہ کہا کہ اﷲ کا جو مال آپ کے پاس ہے آپ حکم دیجئے کہ اس میں سے مجھے کچھ مل جائے۔ حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اس بدوی کی طرف تو جہ فرمائی تو کمال حلم و عفو سے اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑے اور پھر اس کو کچھ مال عطا فرمانے کا حکم صادر فرمایا۔(1)  (بخاری ج۱ ص۴۴۶ باب ماکان یعطی النبی المولفۃ)

جنگ ِاُحد میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دندان مبارک کو شہید کر دیا اور عبداﷲ بن قمیۂ نے چہرۂ انور کو زخمی اور خون آلود کر دیا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے اس کے سوا کچھ بھی نہ فرمایا کہ
اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
یعنی اے اﷲ! عزوجل میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔(2)

    خیبر میں زینب نامی یہودی عورت نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو زہر دیا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کوئی انتقام نہیں لیا، لبید بن اعصم نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر جادو کیا اور بذریعہ وحی اس کا سارا حال معلوم ہوا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ مواخذہ نہیں فرمایا، غورث بن الحارث نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ سے آپ کی تلوار لے کر نیام سے کھینچ لی، جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اب کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچا لے گا؟ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''اﷲ''۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب فرض الخمس ، باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ 

الحدیث:۳۱۴۹،ج۲ ، ص ۳۵۹

2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما الحلم ...الخ ، ج۱ ، ص ۱۰۵
Flag Counter