Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
603 - 872
نے اس ترکیب سے ان دونوں نشانیوں کو بھی ان میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ یقینا یہ نبی برحق ہیں اور اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بہت ہی مالدار آدمی ہوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا آدھا مال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت پر صدقہ کر دیا پھر یہ بارگاہ رسالت میں آئے اور کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں آگئے۔(1)         (دلائل النبوۃ ج۱ ص۲۳ و زرقانی ج۴ ص۲۵۳)

    حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ ِحنین سے واپسی پر دیہاتی لوگ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور آپ سے مال کا سوال کرنے لگے،یہاں تک آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چمٹے کہ آپ پیچھے ہٹتے ہٹتے ایک ببول کے درخت کے پاس ٹھہر گئے۔ اتنے میں ایک بدوی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی چادر مبارک اچک کر لے بھاگا پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ میری چادر تو مجھے دے دو اگر میرے پاس ان جھاڑیوں کے برابر چوپائے ہوتے تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا، تم لوگ مجھے نہ بخیل پاؤ گے نہ جھوٹا نہ بزدل۔ (2)(بخاری ج ۱ ص ۴۴۶)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے۔ ایک دم ایک بدوی نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اتنے زبردست جھٹکے سے چادر مبارک کو اس نے کھینچا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نرم و
1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃللبیہقی،باب استبراء زید بن سعنۃ...الخ،ج۱،ص۲۷۸

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب فرض الخمس ، باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ، الحدیث: ۳۱۴۸،ج۲ ، ص ۳۵۹
Flag Counter