ایسی گستاخی کر رہا ہے؟ خدا کی قسم! اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو میں ابھی ابھی اپنی تلوار سے تیراسر اڑا دیتا۔ یہ سن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حق کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کرکے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اس کے حق کے برابر کھجوریں دے دو،اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر! میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ چونکہ میں نے ٹیڑھی ترچھی نظروں سے دیکھ کر تم کو خوفزدہ کر دیا تھا اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمہاری دلجوئی و دلدا ری کے لئے تمہارے حق سے کچھ زیادہ دینے کا مجھے حکم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر!کیا تم مجھے پہچانتے ہو میں زید بن سعنہ ہوں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم وہی زید بن سعنہ ہو جو یہودیوں کا بہت بڑا عالم ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی گستاخی کیوں کی؟ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ در اصل بات یہ ہے کہ میں نے توراۃ میں نبی آخر الزمان کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں ان سب کو میں نے ان کی ذات میں دیکھ لیا مگر دو نشانیوں کے بارے میں مجھے ان کا امتحان کرنا باقی رہ گیا تھا۔ ایک یہ کہ ان کا حلم جہل پر غالب رہے گا اور جس قدر زیادہ ان کے ساتھ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اسی قدر ان کا حلم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ میں