Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
601 - 872
پڑھا ہے کہ جب سے دنیا عالم وجود میں آئی ہے اس وقت سے قیامت تک کے تمام انسانوں کی عقلوں کا اگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف سے موازنہ کیا جائے تو تمام انسانوں کی عقلوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عقل شریف سے وہی نسبت ہو گی جو ایک ریت کے ذرے کو تمام دنیا کے ریگستانوں سے نسبت ہے۔ یعنی تمام انسانوں کی عقلیں ایک ریت کے ذرے کے برابر ہیں ا ور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عقل شریف تمام دنیا کے ریگستانوں کے برابر ہے۔اس حدیث کو ابو نعیم محدث نے حلیہ میں روایت کیا اور محدث ابن عساکر نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔(1)

             (زرقانی ج۴ ص۲۵۰ و شفاء شریف ج۱ ص۴۲)
حلم و عفو
    حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو پہلے ایک یہودی عالم تھے انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کھجوریں خریدی تھیں۔ کھجوریں دینے کی مدت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے انتہائی تلخ و ترش لہجے میں سختی کے ساتھ تقاضا کیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دامن اور چادر پکڑ کر نہایت تندوتیز نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور چلا چلا کریہ کہاکہ اے محمد! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تم سب عبدالمطلب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں دیر لگایا کرتے ہو اورٹال مٹول کرنا تم لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپے سے باہر ہو گئے اور نہایت غضب ناک اور زہریلی نظروں سے گھور گھور کر کہا کہ اے خدا کے دشمن! تو خدا کے رسول سے
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما وفور عقلہ،ج۱،ص ۶۷
Flag Counter