| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اعلانِ نبوت کے بعد مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو یا تین حج کئے۔ (1) (ترمذی باب کم حج النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و ابن ماجہ) لیکن ہجرت کے بعدمدینہ منورہ سے ۱۰ ھ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک حج فرمایاجوحجۃ الوداع کے نام سے مشہورہے جس کامفصل تذکرہ گزرچکا۔حج کے علاوہ ہجرت کے بعدآپ نے چارعمرے بھی ادافرمائے۔(2)(ترمذی وبخاری ومسلم کتاب الحج)
ذکر الٰہی
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر وقت ہر گھڑی ہر لحظہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔(3)(ابو داؤد کتاب الطہارۃ وغیرہ)
اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، وضو کرتے، نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے، سواری سے اترتے، سفر میں جاتے، سفر سے واپس ہوتے، بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے، مسجد میں آتے جاتے، جنگ کے وقت، آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت، ہر وقت ہر حال میں دعائیں وردِ زبان رہتی تھیں۔ خوشی اورغمی کے اوقات میں،صبح صادق طلوع ہونے کے وقت، غروبِ آفتاب کے وقت، مرغ کی آواز سن کر،گدھے کی آواز سن کر،غرض کون سا ایسا موقع تھا کہ آپ کوئی دعا نہ پڑھتے دن ہی میں نہیں بلکہ رات کے سناٹوں میں بھی برابر دعا خوانی اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتے یہاں تک کہ بوقتِ وفات بھی جو فقرہ بار بار وردِ زَبان رہا وہاَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی
کی دعا تھی۔(صحاح ستہ و حصن حصین وغیرہ کتب احادیث)
1۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب الحج،باب کم حج النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۸۱۵،ج۲،ص۲۲۰ 2۔۔۔۔۔۔سنن التر مذی،کتاب الحج،باب کم اعتمرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۸۱۷،ج۲،ص۲۲۱ 3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الاذان،تحت الباب ھل یتتبع المؤذن...الخ،ج۱،ص۲۲۹