Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
599 - 872
    اٹھارہواں باب

                        اخلاقِ نبوت
    آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا پوچھنا؟ جب کہ خود خالق اخلاق نے یہ فرما دیا کہ
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾ (1)
یعنی اے حبیب! بلا شبہ آپ اخلاق کے بڑے درجہ پر ہیں۔

     آج تقریباً چودہ سو برس گزر جانے کے بعد دشمنان رسول کی کیا مجال کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بد اخلاق کہہ سکیں اس وقت جب کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مجمعوں میں اپنے عملی کردار کا مظاہرہ فرما رہے تھے۔ خداوند قدوس نے قرآن میں اعلان فرمایا کہ
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنۡتَ لَہُمْ ۚ وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ ۪  (2)
(اے حبیب) خدا کی رحمت سے آپ لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آتے ہیں اگر آپ کہیں بداخلاق اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے ہٹ جاتے۔(آلِ عمران)

    دشمنانِ رسول نے قرآن کی زَبان سے یہ خدائی اعلان سنا مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ اس کے خلاف کوئی بیان دیتا یا اس آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت کو جھٹلاتابلکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بڑے سے بڑے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت ہی بلند اخلاق، نرم خو اوررحیم و کریم ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔پ۲۹،القلم:۴                2۔۔۔۔۔۔ پ۴،ال عمرٰن:۱۵۹
Flag Counter