Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
590 - 872
دربار نبوت
حضور تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دربار سلاطین اور بادشاہوں جیسا دربار نہ تھا۔یہ دربار تخت و تاج، نقیب و دربان، پہرہ دار اورباڈی گارڈ وغیرہ کے تکلفات سے قطعاً بے نیاز تھا۔مسجد نبوی کے صحن میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک چھوٹا سا مٹی کا چبوترہ بنا دیا تھا یہی تاجدار رسالت صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وہ تخت شاہی تھا جس پر ایک چٹائی بچھا کر دونوں عالم کے تاجدار اور شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوتے تھے مگر اس سادگی کے باوجود جلالِ نبوت سے ہر شخص اس دربار میں پیکر تصویر نظر آتا تھا۔ بخاری شریف وغیرہ کی روایات میں آیا ہے کہ لوگ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں بیٹھتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں کوئی ذرا جنبش نہیں کرتا تھا۔(1)(بخاری ج۱ ص۳۹۸)

آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اس دربار میں سب سے پہلے اہل حاجت کی طرف تو جہ فرماتے اور سب کی درخواستوں کو سن کر ان کی حاجت روائی فرماتے۔ قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے تمام حاضرین کمال ادب سے سر جھکائے رہتے اور جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرماتے تو مجلس پر سناٹا چھا جاتا اور سب لوگ ہمہ تن گوش ہو کر شہنشاہ کونین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان نبوت کو سنتے۔

(بخاری ج۱ ص۳۸۰ شروط فی الجہاد)

آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں آنے والوں کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی امیر و فقیر شہری اور بدوی سب قسم کے لوگ حاضر دربار ہوتے اور اپنے اپنے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھادوالسیر،باب فضل النفقۃ فی سبیل اللہ،الحدیث:۲۸۴۲، ج۲،ص۲۶۶ملتقطاً
Flag Counter