Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
591 - 872
لہجوں میں سوال و جواب کرتے کوئی شخص اگر بولتا تو خواہ وہ کتنا ہی غریب و مسکین کیوں نہ ہو مگر دوسرا شخص اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا امیر کبیر ہو اس کی بات کاٹ کر بول نہیں سکتا تھا۔ سبحان اﷲ! ؎

وہ عادل جس کے میزان عدالت میں برابر ہیں

غبار مسکنت ہو یا وقارِ تاجِ سلطانی

جو لوگ سوال و جواب میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کمال حلم سے برداشت فرماتے اور سب کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین اور مواعظ ونصائح فرماتے رہتے اور اپنے مخصوص اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ بھی فرماتے رہتے اور صلح و جنگ اور امت کے نظام و انتظام کے بارے میں ضروری احکام بھی صادر فرمایا کرتے تھے۔ اسی دربار میں آپ مقدمات کا فیصلہ بھی فرماتے تھے۔
تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خطبات
نبی و رسول چونکہ دین کے داعی اورشریعت و ملت کے مبلغ ہوتے ہیں اور تعلیم شریعت اور تلقین دین کا بہترین ذریعہ خطبہ اور وعظ ہی ہے اس لئے ہر نبی و رسول کا خطیب اور واعظ ہونا ضروریات ولوازمِ نبوت میں سے ہے۔ یہی و جہ ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی رسالت سے سرفراز فرما کر فرعون کے پاس بھیجا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت یہ دعا مانگی کہ
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیۡ صَدْرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾وَ یَسِّرْ لِیۡۤ اَمْرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾یَفْقَہُوۡا قَوْلِیۡ ﴿۪۲۸﴾ (1)
اے میرے رب میرا سینہ کھول دے میرے لئے میرا کام آسان کر اور میری زَبان کی گرہ کھول دے کہ وہ لوگ میری بات سمجھیں۔(طہٰ)
1۔۔۔۔۔۔الف پ۱۶،طہ:۲۵۔۲۸
Flag Counter