حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت ہی باوقار رفتار کے ساتھ چلتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بوقت رفتار حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ذرا جھک کر چلتے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کسی بلندی سے اتر رہے ہیں ۔حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس قدر تیز چلتے تھے کہ گویا زمین آپ کے قدموں کے نیچے سے لپیٹی جا رہی ہے۔ ہم لوگ آ پ کے ساتھ چلنے میں ہانپنے لگتے اور مشقت میں پڑ جاتے تھے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بلا تکلف بغیر کسی مشقت کے تیز رفتاری کے ساتھ چلتے رہتے تھے۔ (1)(شمائل ترمذی ص۹)
کلام
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ نہایت ہی متانت اور سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے تھے بلکہ کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا تھا کہ سننے والے اس کو سمجھ کر یاد کر لیتے تھے۔ اگر کوئی اہم بات ہوتی تو اس جملہ کو کبھی کبھی تین تین مرتبہ فرما دیتے تاکہ سامعین اس کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''جوامع الکلم'' کا معجزہ عطا کیا گیا تھا کہ مختصر سے جملہ میں لمبی چوڑی بات کو بیان فرما دیا کرتے تھے۔ حضرت ہند بن ابو ہالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بلا ضرورت گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ اکثر خاموش ہی رہتے تھے۔ (2) (شمائل ترمذی ص۱۵)
1۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ ، باب ماجاء فی مشیۃ رسول اللہ صلی اللہ وسلم،الحدیث:۱۱۶، ۱۱۷،۱۱۸، ص۸۶،۸۷ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب کیف کان کلام رسول اللہ،الحدیث:۲۱۳،۲۱۴،۲۱۵،ص۱۳۴،۱۳۵