| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
تعالیٰ عنہن وہیں جمع ہو جاتیں،عشاء تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان سے بات چیت فرماتے رہتے پھر نماز عشاء کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے اور مسجد سے واپس آ کر آرام فرماتے اور عشاء کے بعد بات چیت کونا پسند فرماتے ۔(1) (مسلم ج۱ ص۴۷۲ باب القسم بین الزوجات)
سونا جاگنا
نماز عشاء پڑھ کر آرام کرنا عام طور پر یہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معمول تھا، سونے سے پہلے قرآن مجید کی کچھ سورتیں ضرور تلاوت فرماتے اور کچھ دعاؤں کا بھی ورد فرماتے۔ پھر اکثر یہ دعا پڑھ کر دا ہنی کروٹ پر لیٹ جاتے کہاَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی
یااﷲ! تیرا نام لے کر وفات پاتا ہوں اور زندہ رہتا ہوں۔ نیند سے بیدار ہوتے تو اکثر یہ دعا پڑھتے کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ (2)
اس خداکیلئے حمد ہے جس نے موت کے بعد ہم کو زندہ کیا اوراسی کی طرف حشر ہو گا۔
آدھی رات یا پہر رات رہے بستر سے اٹھ جاتے مسواک فرماتے پھر وضو کرتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ تلاوت فرماتے، مختلف دعاؤں کا وظیفہ فرماتے، خصوصیت کے ساتھ نماز تہجد ادا فرماتے، تہجد کی نماز میں کبھی لمبی لمبی کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے، ضعف پیری میں کبھی کچھ رکعتیں بیٹھ کر بھی ادا فرماتے، نمازِ تہجد کے بعد وتر پڑھتے اور پھر صبح صادق طلوع ہو جانے کے بعد سنت فجر ادا فرما کر نمازِ فجر کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے، کبھی کبھی کئی کئی بار رات میں سوتے اور جاگتے اور قرآن مجید کی آیات تلاوت فرماتے اورکبھی ازواجِ مطہرات رضی اللہ1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الرضاع،باب القسم بین الزوجات...الخ،الحدیث:۱۴۶۲،ص۷۷۰ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب وضع الیدالیمنی...الخ،الحدیث:۶۳۱۴،ج۴،ص۱۹۲